ماں کا دودھ نوزائیدہ بچوں کی پرورش کے لیے بہت ضروری ہے۔ اسلامی تعلیمات اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔
اگر حقیقی مائیں دودھ پلانے کے لیے طبی طور پر یا طبعی طور پر اس قابل نہیں تو دوسری عورت کا دودھ بھی بچے کو دیا جا سکتا ہے۔ جو پاسچرائزیشن کے بعد بچے کو فراہم کیا جائے گا۔
چے کی ماں کا دودھ ہمیشہ پہلی ترجیح ہوتا ہے، اور اگر بچے کو زیادہ دودھ کی ضرورت ہو تو پھر دوسری خاتون کا عطیہ کردہ دودھ (PDBM) (پاسچرائزڈ ڈونر بریسٹ دودھ) فراہم کیا جائے گا کیونکہ یہ اس کی نشوونما کے لیے اہم ہے۔
کسی بھی ماں کا دودھ مسلمان کے نوزائیدہ بچے کے لیے حلال ہے۔ قبل از وقت پیدا ہونے والے اور کم وزن پیدا ہونے والے بچوں کو سنگین اور مہلک پیچیدگیوں اور انفیکشن کو کم کرنے کے لیے چھاتی کے دودھ کے بینک سے PDBM دودھ دیا جاتا ہے۔
سلام اپنی چھاتی کا دودھ دینے والی عورت کو دودھ پینے والے بچے کی ماں کا درجہ دیتا ہے اور ایسے بچوں کو اس خاتون کے بچوں سے شادی کی ممانعت کرتا ہے بسبب رضاعت کے اس لیے اسلام میں چھاتی کا دودھ رضاعت کو ثابت کرتا ہے۔
اس کے باوجود کہ PDBM بنیادی طور پر دوا کے طور پر کام کرتا ہے اور یہ ٹیوب، بوتل یا کپ کے ذریعے بچے کو دیا جاتا ہے۔ (براہ راست چھاتی سے نہیں پینا) پھر بھی بھی جائز ہے۔
ہانگ کانگ کے ائمہ اور اسلامک بورڈ کے ٹرسٹی نوزائیدہ بچوں کو ضرورت کے تحت نشوونما یا صحت کے لیے دوسری ماؤں کے دودھ سے خوراک یا علاج کرنے پر متفق ہیں۔ جس کی اسلام میں اجازت ہے۔
ہانگ کانگ بریسٹ ملک بینک اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ عطیہ دہندگان اور نوزائیدہ بچوں کی معلومات اور شناخت کو خفیہ رکھا جائے گا اور اسے مکمل طور پر طبی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم جن خواتین کا دودھ بچے کو دیا گیا تھا گمنام اسکریننگ ڈیٹا والدین کو ان کی درخواست پر فراہم کیا جا سکتا ہے اگر بچے کی صحت کا تقاضا ہے۔
مندرجہ بالا بیان متفقہ طور پر مقامی مفتیوں/اماموں اور اسلامک بورڈ آف ٹرسٹی نے منظور کیا ہے۔ اور اس کی حمایت میں سنگاپور کی اسلامی مذہبی کونسل (MUIS) کا فتویٰ بھی موجود ہے۔
2026 ايريل 19
.Saeed Uddin, S.B.S., M.H
Chairman
The Incorporated Trustees of the
Islamic Community Fund of Hong Kong
Mufti Muhammad Arshad
Chief Imam of Hong Kong